Font by Mehr Nastaliq Web

میں جب درِ رسول پہ جا کر مچل گیا

محمد آصف قادری

میں جب درِ رسول پہ جا کر مچل گیا

محمد آصف قادری

MORE BYمحمد آصف قادری

    میں جب درِ رسول پہ جا کر مچل گیا

    یکسر مری حیات کا نقشہ بدل گیا

    چشمِ کرم حضور کی جس پر بھی ہو گئی

    دونوں جہاں کی آفتوں سے وہ نکل گیا

    شہرِ نبی کی برکتیں دیکھو ہیں کس قدر

    جو بھی گیا ہے اس کا مقدر بدل گیا

    شاہوں سے بڑھ کے مرتبہ ایسے گدا کا ہے

    سلطانِ دوجہاں کے جو ٹکڑوں پہ پل گیا

    بیڑا تھا ڈوبنے ہی کو طوفان میں مرا

    نظریں اٹھیں حضور کی فوراً سنبھل گیا

    قسمت میں کاش ایسا بھی ہو کہہ اٹھیں سبھی

    آصفؔ کا جالیوں کے قریں دم نکل گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے