میں جب درِ رسول پہ جا کر مچل گیا
میں جب درِ رسول پہ جا کر مچل گیا
یکسر مری حیات کا نقشہ بدل گیا
چشمِ کرم حضور کی جس پر بھی ہو گئی
دونوں جہاں کی آفتوں سے وہ نکل گیا
شہرِ نبی کی برکتیں دیکھو ہیں کس قدر
جو بھی گیا ہے اس کا مقدر بدل گیا
شاہوں سے بڑھ کے مرتبہ ایسے گدا کا ہے
سلطانِ دوجہاں کے جو ٹکڑوں پہ پل گیا
بیڑا تھا ڈوبنے ہی کو طوفان میں مرا
نظریں اٹھیں حضور کی فوراً سنبھل گیا
قسمت میں کاش ایسا بھی ہو کہہ اٹھیں سبھی
آصفؔ کا جالیوں کے قریں دم نکل گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.