نعت کیا لکھوں شہِ ابرار کی
نعت کیا لکھوں شہِ ابرار کی
خود خدا مدحت کرے سرکار کی
اس پہ بارش کیوں نہ ہو انوار کی
ہو گئی جس پر نظر سرکار کی
کب ہے خواہش درہم و دینار کی
بھیک بس مل جائے اُن کی پیار کی
ذرۂ خاکِ شفا کے سامنے
کیا ہے وقعت لعل کے انبار کی
خارِ طیبہ ہے مرے پیشِ نظر
بات کیا چھیڑوں گل و گلزار کی
ہوں حبیبِ پاک کے در کا گدا
کیا یہ خوش بختی نہیں نادار کی
ہے یقیں حاصل مجھے ہو جائے گی
دید ان کے گنبد و مینار کی
ان کے کوچے میں ملے دو گز زمیں
التجا ہے بیکس و ناچار کی
ہیں شفیع المذنبیں آقا مرے
کیوں بھلا ہو فکر مجھ کو نار کی
ہو کرم آصفؔ پہ بھی شاہِ امم
بھیک کر دیجیے عطا دیدار کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.