Font by Mehr Nastaliq Web

نعت کیا لکھوں شہِ ابرار کی

محمد آصف قادری

نعت کیا لکھوں شہِ ابرار کی

محمد آصف قادری

MORE BYمحمد آصف قادری

    نعت کیا لکھوں شہِ ابرار کی

    خود خدا مدحت کرے سرکار کی

    اس پہ بارش کیوں نہ ہو انوار کی

    ہو گئی جس پر نظر سرکار کی

    کب ہے خواہش درہم و دینار کی

    بھیک بس مل جائے اُن کی پیار کی

    ذرۂ خاکِ شفا کے سامنے

    کیا ہے وقعت لعل کے انبار کی

    خارِ طیبہ ہے مرے پیشِ نظر

    بات کیا چھیڑوں گل و گلزار کی

    ہوں حبیبِ پاک کے در کا گدا

    کیا یہ خوش بختی نہیں نادار کی

    ہے یقیں حاصل مجھے ہو جائے گی

    دید ان کے گنبد و مینار کی

    ان کے کوچے میں ملے دو گز زمیں

    التجا ہے بیکس و ناچار کی

    ہیں شفیع المذنبیں آقا مرے

    کیوں بھلا ہو فکر مجھ کو نار کی

    ہو کرم آصفؔ پہ بھی شاہِ امم

    بھیک کر دیجیے عطا دیدار کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے