خدا کو وہی لوگ پائے ہوئے ہیں
خدا کو وہی لوگ پائے ہوئے ہیں
محمد سے جو دل لگائے ہوئے ہیں
وہ دل میں ہمارے سمائے ہوئے ہیں
ہم اللہ سے لو لگائے ہوئے ہیں
ہمیں تو ہے اللہ سے صرف مطلب
ہم اوروں کو دل سے بھلائے ہوئے ہیں
نظر ہی نہیں غیر آئے گا اس کو
وہ آنکھوں میں جس کی سمائے ہوئے ہیں
کسی اور کا ہوش ہو مجھ کو کیوں کر
وہ ہر آن جب مجھ پہ چھائے ہوئے ہیں
مقدر نہ کیوں عرش پر اپنا دیکھوں
وہ خود جب مرے دل میں آئے ہوئے ہیں
عجب لطف ولذت ہے اللہ اکبر
تری یاد دل میں جمائے ہوئے ہیں
کہاں ہم کہاں یاد تیری الٰہی
کرم ہی سے دولت یہ پائے ہوئے ہیں
نہیں ہے فرشتوں کو اس کی خبر کچھ
کہ جو چوٹ ہم دل پہ کھائے ہوئے ہیں
لٹائیں نہ کیوں جان اور مال اپنا
حلاوت جو ایماں کی پائے ہوئے ہیں
نثار ان پہ ہو دین و دنیا کی دولت
محبت کے جو تیر کھائے ہوئے ہیں
وہی تو ہیں اللہ کے خاص بندے
جو ہستی کو اپنی مٹائے ہوئے ہیں
جھکائیں گے ہر گز نہیں سر کہیں بھی
ترے در پہ جو سرجھکائے ہوئے ہیں
خدا ان کو شاد اور آباد رکھے
جو محفل کو ان کی سجائے ہوئے ہیں
خدا کو وہ بندے بہت ہی ہیں پیارے
جو سینے سے قرآں لگائے ہوئے ہیں
نہ کیوں ناز قسمت پہ اپنی کریں ہم
محمد سا آقا جو پائے ہوئے ہیں
فدا اس پہ ہو جاؤ تم جان و دل سے
محمد جو فرمان لائے ہوئے ہیں
وہ عالم کے رحمت ہیں رحمت کے عالم
کہ ایمان ہم جن پہ لائے ہوئے ہیں
غلامان احمد کا کیا پوچھنا ہے
وہ دوزخ کو جنت بنائے ہوئے ہیں
چلو دوستو! دل کریں اپنا روشن
وہ شمعِ محبت جلائے ہوئے ہیں
نہیں بھول کر یہ کبھی ہم نے سوچا
کہ دنیا میں کیوں آہ آئے ہوئے ہیں
جو آئے تھے ہم قول کرکے خدا سے
وہ دنیا میں ہم سب بھلائے ہوئے ہیں
نہیں ہائے اللہ سے کچھ کچھ تعلق
سب اغیار سے دل لگائے ہوئے ہیں
خطا کر معاف اپنی رحمت سے یارب
گنہگار سب درپہ آئے ہوئے ہیں
گنہگار ہیں ہم خطا کار ہیں ہم
مگر آس تجھ سے لگائے ہوئے ہیں
محمد پہ احمدؔ فدا ہوچکے ہیں
یہ انعام مالک سے پائے ہوئے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.