Font by Mehr Nastaliq Web

خدا کو وہی لوگ پائے ہوئے ہیں

محمد احمد پرتاپ گڑھی

خدا کو وہی لوگ پائے ہوئے ہیں

محمد احمد پرتاپ گڑھی

MORE BYمحمد احمد پرتاپ گڑھی

    خدا کو وہی لوگ پائے ہوئے ہیں

    محمد سے جو دل لگائے ہوئے ہیں

    وہ دل میں ہمارے سمائے ہوئے ہیں

    ہم اللہ سے لو لگائے ہوئے ہیں

    ہمیں تو ہے اللہ سے صرف مطلب

    ہم اوروں کو دل سے بھلائے ہوئے ہیں

    نظر ہی نہیں غیر آئے گا اس کو

    وہ آنکھوں میں جس کی سمائے ہوئے ہیں

    کسی اور کا ہوش ہو مجھ کو کیوں کر

    وہ ہر آن جب مجھ پہ چھائے ہوئے ہیں

    مقدر نہ کیوں عرش پر اپنا دیکھوں

    وہ خود جب مرے دل میں آئے ہوئے ہیں

    عجب لطف ولذت ہے اللہ اکبر

    تری یاد دل میں جمائے ہوئے ہیں

    کہاں ہم کہاں یاد تیری الٰہی

    کرم ہی سے دولت یہ پائے ہوئے ہیں

    نہیں ہے فرشتوں کو اس کی خبر کچھ

    کہ جو چوٹ ہم دل پہ کھائے ہوئے ہیں

    لٹائیں نہ کیوں جان اور مال اپنا

    حلاوت جو ایماں کی پائے ہوئے ہیں

    نثار ان پہ ہو دین و دنیا کی دولت

    محبت کے جو تیر کھائے ہوئے ہیں

    وہی تو ہیں اللہ کے خاص بندے

    جو ہستی کو اپنی مٹائے ہوئے ہیں

    جھکائیں گے ہر گز نہیں سر کہیں بھی

    ترے در پہ جو سرجھکائے ہوئے ہیں

    خدا ان کو شاد اور آباد رکھے

    جو محفل کو ان کی سجائے ہوئے ہیں

    خدا کو وہ بندے بہت ہی ہیں پیارے

    جو سینے سے قرآں لگائے ہوئے ہیں

    نہ کیوں ناز قسمت پہ اپنی کریں ہم

    محمد سا آقا جو پائے ہوئے ہیں

    فدا اس پہ ہو جاؤ تم جان و دل سے

    محمد جو فرمان لائے ہوئے ہیں

    وہ عالم کے رحمت ہیں رحمت کے عالم

    کہ ایمان ہم جن پہ لائے ہوئے ہیں

    غلامان احمد کا کیا پوچھنا ہے

    وہ دوزخ کو جنت بنائے ہوئے ہیں

    چلو دوستو! دل کریں اپنا روشن

    وہ شمعِ محبت جلائے ہوئے ہیں

    نہیں بھول کر یہ کبھی ہم نے سوچا

    کہ دنیا میں کیوں آہ آئے ہوئے ہیں

    جو آئے تھے ہم قول کرکے خدا سے

    وہ دنیا میں ہم سب بھلائے ہوئے ہیں

    نہیں ہائے اللہ سے کچھ کچھ تعلق

    سب اغیار سے دل لگائے ہوئے ہیں

    خطا کر معاف اپنی رحمت سے یارب

    گنہگار سب درپہ آئے ہوئے ہیں

    گنہگار ہیں ہم خطا کار ہیں ہم

    مگر آس تجھ سے لگائے ہوئے ہیں

    محمد پہ احمدؔ فدا ہوچکے ہیں

    یہ انعام مالک سے پائے ہوئے ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے