درد دل شکر ہے مستقل ہوگیا
درد دل شکر ہے مستقل ہوگیا
اب تو شاید مرا دل بھی دل ہوگیا
لذت زیست ہی خاک میں مل گئی
عشق جب سے مرا مضمحل ہوگیا
ان کی نظروں کی برکت ذرا دیکھیے
سوزش دل مرا سازِ دل ہوگیا
وہ تڑپ ہائے اب دل میں پاتا نہیں
ہے غضب زخم دل مند مل ہوگیا
چھیڑ اہلِ محبت کی معراج ہے
بے خبر ہائے تو مشتعل ہوگیا
اب نہ افراط باقی نہ تفریط ہے
عشق کامل ہوا معتدل ہوگیا
پہلے احمدؔ مجھے دردِ الفت ملا
رفتہ رفتہ وہی درد دل ہوگیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.