Font by Mehr Nastaliq Web

یہ آرزو نہیں کہ دعائیں ہزار دو

محمد علی ظہوری

یہ آرزو نہیں کہ دعائیں ہزار دو

محمد علی ظہوری

MORE BYمحمد علی ظہوری

    یہ آرزو نہیں کہ دعائیں ہزار دو

    پڑھ کر نبی کی نعت لحد میں اتار دو

    دیکھا ابھی ابھی ہے نظر نے جمال یار

    اے موت مجھ کو تھوڑی سی مہلت ادھار دو

    سنتے ہیں جانکنی کا ہے لمحہ بہت کٹھن

    لے کر نبی کا نام یہ لمحہ گزار دو

    گر جیتنا ہے عشق میں لازم یہ شرط ہے

    کھیلو اگر یہ بازی تو ہر چیز ہار دو

    یہ جان بھی ظہوریؔ نبی کے طفیل ہے

    اس جان کو حضور کا صدقہ اتار دو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے