یہ آرزو نہیں کہ دعائیں ہزار دو
یہ آرزو نہیں کہ دعائیں ہزار دو
پڑھ کر نبی کی نعت لحد میں اتار دو
دیکھا ابھی ابھی ہے نظر نے جمال یار
اے موت مجھ کو تھوڑی سی مہلت ادھار دو
سنتے ہیں جانکنی کا ہے لمحہ بہت کٹھن
لے کر نبی کا نام یہ لمحہ گزار دو
گر جیتنا ہے عشق میں لازم یہ شرط ہے
کھیلو اگر یہ بازی تو ہر چیز ہار دو
یہ جان بھی ظہوریؔ نبی کے طفیل ہے
اس جان کو حضور کا صدقہ اتار دو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.