زمزم مئے تسنیم ہے پیمانہ نیا ہے
زمزم مئے تسنیم ہے پیمانہ نیا ہے
ساقی مدنی چاند ہے میخانہ نیا ہے
اتری ہے شراب عرش سے میخانہ نیا ہے
ساقی ہے نیا شیشہ و پیمانہ نیا ہے
فرمانے لگے دیکھ کے عشاق کا مجمع
اس بھیڑ میں شاید کوئی مستانہ نیا ہے
قربان ہوا جاتا ہے ہر ناز و ادا پر
انداز وفائے دلِ دیوانہ نیا ہے
ہے میکدہ عشق کا دنیا سے نیا رنگ
میکش نئے بادہ نیا پیمانہ نیا ہے
واعظ خرد دہر کے افسانے عبث ہیں
ہم کو نہ یہ کعبہ نہ یہ بت خانہ نیا ہے
بیٹھا ہے ترے نام پہ تکیہ کیے مولیٰ
بالاؔ کا ترے رنگِ فقیرانہ نیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.