Font by Mehr Nastaliq Web

کیسے پہنچا ہے کہاں کس کا قدم آج کی رات

محمد ابراہیم صدیقی

کیسے پہنچا ہے کہاں کس کا قدم آج کی رات

محمد ابراہیم صدیقی

MORE BYمحمد ابراہیم صدیقی

    کیسے پہنچا ہے کہاں کس کا قدم آج کی رات

    کیف خاموش تحیر میں ہے کم آج کی رات

    چھینٹے دیتا ہے عجب ابر کرم آج کی رات

    لاؤ بھر دیں نہ سمندر کو بھی ہم آج کی رات

    اُدن منی کی فضاؤں میں فاوحیٰ کا خرام

    ہوگئے طالب و مطلوب بہم آج کی رات

    ان کے جلووں سے ہوا ہے دل مضطر روشن

    حاصلِ عیش و مسرت ہے الم آج کی رات

    دید محبوب دوعالم سے ہیں مست و بے خود

    عالم وجد میں ہیں لوح و قلم آج کی رات

    حال ہے اپنی جگہ اور ہے ساعت خاموش

    کس کے ہاتھوں ہے حدوث اور قدم آج کی رات

    اللہ اللہ یہ بلندیِ مقام آقا

    عرش سے بھی کہیں آگے ہے قدم آج کی رات

    آپ چاہیں تو غلاموں کو بنا دیں آقا

    آپ ہیں مالک اقبال و حشم آج کی رات

    چشم موسیٰ میں کہاں تاب جو دیکھے جلوہ

    حاصلِ طور ہوئی راہ عدم آج کی رات

    ہر نظر ان کی تجلی سے ہے دنیائے جمال

    دل پر شوق ہے قندیل حرم آج کی رات

    اللہ اللہ یہ جلال شہِ والا خوشترؔ

    آسماں بھی پئے تعظیم ہے خم آج کی رات

    مأخذ :
    • کتاب : Khushbu-e-Khushtar

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے