کیسے پہنچا ہے کہاں کس کا قدم آج کی رات
کیسے پہنچا ہے کہاں کس کا قدم آج کی رات
کیف خاموش تحیر میں ہے کم آج کی رات
چھینٹے دیتا ہے عجب ابر کرم آج کی رات
لاؤ بھر دیں نہ سمندر کو بھی ہم آج کی رات
اُدن منی کی فضاؤں میں فاوحیٰ کا خرام
ہوگئے طالب و مطلوب بہم آج کی رات
ان کے جلووں سے ہوا ہے دل مضطر روشن
حاصلِ عیش و مسرت ہے الم آج کی رات
دید محبوب دوعالم سے ہیں مست و بے خود
عالم وجد میں ہیں لوح و قلم آج کی رات
حال ہے اپنی جگہ اور ہے ساعت خاموش
کس کے ہاتھوں ہے حدوث اور قدم آج کی رات
اللہ اللہ یہ بلندیِ مقام آقا
عرش سے بھی کہیں آگے ہے قدم آج کی رات
آپ چاہیں تو غلاموں کو بنا دیں آقا
آپ ہیں مالک اقبال و حشم آج کی رات
چشم موسیٰ میں کہاں تاب جو دیکھے جلوہ
حاصلِ طور ہوئی راہ عدم آج کی رات
ہر نظر ان کی تجلی سے ہے دنیائے جمال
دل پر شوق ہے قندیل حرم آج کی رات
اللہ اللہ یہ جلال شہِ والا خوشترؔ
آسماں بھی پئے تعظیم ہے خم آج کی رات
- کتاب : Khushbu-e-Khushtar
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.