جب رخ پہ تمہارے زلفیں ہوں واللیل کا طغریٰ ہو جائے
جب رخ پہ تمہارے زلفیں ہوں واللیل کا طغریٰ ہو جائے
محمد ابراہیم صدیقی
MORE BYمحمد ابراہیم صدیقی
جب رخ پہ تمہارے زلفیں ہوں واللیل کا طغریٰ ہو جائے
رخسار فروزاں جس دم ہوں تمثیل والضحیٰ ہو جائے
فردوس کی رنگت کچھ بھی نہیں کتنی ہی دلارا ہو جائے
گلزارِ مدینہ کیا کہیے اک خار ہی طوبیٰ ہو جائے
فاراں کی سعادت کیا کہیے جلووں سے مجلی ہو جائے
ہر ذرے کی قسمت کیا کہنا صد طور تجلی ہو جائے
ہر خار حریفِ جنت ہے ذرہ بھی وہاں کا ماویٰ ہے
ہے فیض جمال رنگیں یہ اس شان کا طیبہ ہو جائے
طوفانِ شقاوت اٹھا ہے عصیاں کا تلاطم برپا ہے
ہے دین کی کشتی موجوں میں اب پار یہ بیڑا ہو جائے
بگڑی وہ بنانے آیا ہے اک شوق کی دنیا لایا ہے
ہے دیر سے حاضر روضے پر خوشترؔ کو اشارہ ہو جائے
- کتاب : Khushbu-e-Khushtar
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.