Font by Mehr Nastaliq Web

کچھ ایسی شان سے محشر میں ختم المرسلیں آئے

محمد ابراہیم صدیقی

کچھ ایسی شان سے محشر میں ختم المرسلیں آئے

محمد ابراہیم صدیقی

MORE BYمحمد ابراہیم صدیقی

    کچھ ایسی شان سے محشر میں ختم المرسلیں آئے

    شفاعت خود پکار اٹھی شفیع المذنبیں آئے

    سنبھل باد طرب وہ سرور دنیا و دیں آئے

    برس اے ابر رحمت رحمت اللعالمیں آئے

    چھٹے بادل وہ پھیلا نور وہ عالم ہوا روشن

    لپیٹ اے کفر اب بستر وہ خیر المرسلیں آئے

    تبسم ریز ہو کر آئے وہ خانے میں وحدت کے

    سجانے بزم امکاں کو بہ انداز حسیں آئے

    مرے دامن پہ نقشہ کھنچ گیا گلزار طیبہ کا

    سر اشک غم ڈھلک کر جب بوقت واپسیں آئے

    مقدر آج لے آیا ہے خوشترؔ کو مدینے میں

    یہاں سے کون تیرے پاس فردوس بریں آئے

    مأخذ :
    • کتاب : Khushbu-e-Khushtar

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے