کچھ ایسی شان سے محشر میں ختم المرسلیں آئے
کچھ ایسی شان سے محشر میں ختم المرسلیں آئے
شفاعت خود پکار اٹھی شفیع المذنبیں آئے
سنبھل باد طرب وہ سرور دنیا و دیں آئے
برس اے ابر رحمت رحمت اللعالمیں آئے
چھٹے بادل وہ پھیلا نور وہ عالم ہوا روشن
لپیٹ اے کفر اب بستر وہ خیر المرسلیں آئے
تبسم ریز ہو کر آئے وہ خانے میں وحدت کے
سجانے بزم امکاں کو بہ انداز حسیں آئے
مرے دامن پہ نقشہ کھنچ گیا گلزار طیبہ کا
سر اشک غم ڈھلک کر جب بوقت واپسیں آئے
مقدر آج لے آیا ہے خوشترؔ کو مدینے میں
یہاں سے کون تیرے پاس فردوس بریں آئے
- کتاب : Khushbu-e-Khushtar
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.