ان کے دربار اقدس میں ہم آگئے
ان کے دربار اقدس میں ہم آگئے
دونوں عالم کا مقصود ہم پا گئے
چھوڑ احباب جب مجھ کو تنہا گئے
والی امت کے ایسے میں خود آگئے
ہم کو ڈھونڈا کریں ہاتھ آتے نہیں
کالی کملی میں آقا کی ہم آگئے
نزع ہو قبر ہو پل ہو میزان ہو
جب کہا یا محمد وہیں آگئے
نام آقا کا ہر بار لیتا گیا
قبر میں مجھ سے وہ پوچھ کیا کیا گئے
زندگی کے تقاضوں کو کیا دیکھتے
ہم نے مانا وہی تم جو فرما گئے
جشن میلاد آقا نہ پوچھ ہم نشیں
دھوم دونوں جہاں میں ہے وہ آگئے
معصیت دھل گئی رب کو پیار آگیا
چند آنسو ندامت کے کام آگئے
عظمت 'ارفع راسک' کا کیا پوچھنا
ساری امت وہ سجدے میں بخشا گئے
خوش ہو خوشترؔ اگرچہ تو بدتر سہی
بد ہیں میرے وہ ارشاد فرما گئے
- کتاب : Khushbu-e-Khushtar
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.