Font by Mehr Nastaliq Web

ان کے دربار اقدس میں ہم آگئے

محمد ابراہیم صدیقی

ان کے دربار اقدس میں ہم آگئے

محمد ابراہیم صدیقی

MORE BYمحمد ابراہیم صدیقی

    ان کے دربار اقدس میں ہم آگئے

    دونوں عالم کا مقصود ہم پا گئے

    چھوڑ احباب جب مجھ کو تنہا گئے

    والی امت کے ایسے میں خود آگئے

    ہم کو ڈھونڈا کریں ہاتھ آتے نہیں

    کالی کملی میں آقا کی ہم آگئے

    نزع ہو قبر ہو پل ہو میزان ہو

    جب کہا یا محمد وہیں آگئے

    نام آقا کا ہر بار لیتا گیا

    قبر میں مجھ سے وہ پوچھ کیا کیا گئے

    زندگی کے تقاضوں کو کیا دیکھتے

    ہم نے مانا وہی تم جو فرما گئے

    جشن میلاد آقا نہ پوچھ ہم نشیں

    دھوم دونوں جہاں میں ہے وہ آگئے

    معصیت دھل گئی رب کو پیار آگیا

    چند آنسو ندامت کے کام آگئے

    عظمت 'ارفع راسک' کا کیا پوچھنا

    ساری امت وہ سجدے میں بخشا گئے

    خوش ہو خوشترؔ اگرچہ تو بدتر سہی

    بد ہیں میرے وہ ارشاد فرما گئے

    مأخذ :
    • کتاب : Khushbu-e-Khushtar

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے