مرے مرشد و راہبر شاہ قاتل
دلچسپ معلومات
نوٹ: یہ مشاعرہ حضرت قاتلؔ اجمیری کے عرس کی مناسبت سے عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں منعقد ہوا تھا، اس مشاعرے کی صدارت بہزادؔ لکھنوی نے فرمائی تھی، جبکہ مصرعِ طرح ’’تمہیں ڈھونڈتی ہے نظر شاہِ قاتل‘‘ مقرر کیا گیا تھا۔
مرے مرشد و راہبر شاہ قاتل
کرم کی ہو مجھ پر نظر شاہ قاتل
مجھے جگہ اپنے قدموں میں دے دو
بنوں ذرۂ خاکِ در شاہ قاتل
تصور میں جس وقت چاہوں بلا لوں
ہو نالوں میں اتنا اثر شاہ قاتل
نہیں کوئی عالم میں ثانی تمہارا
تمہیں ڈھونڈتی ہے نظر شاہ قاتل
مرے دین و دنیا میں تم ہو سہارا
کرم ہو مرے حال پر شاہ قاتل
نبی کے ہو پیارے علی کے دلارے
ولایت کے روشن قمر شاہ قاتل
بس اب شورؔ کی التجا ہے تو یہ ہے
قیامت میں لیجے خبر شاہ قاتل
- کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 44)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.