پھر پیشِ نظر گنبدِ خضریٰ ہے حرم ہے
پھر پیشِ نظر گنبدِ خضریٰ ہے حرم ہے
پھر نامِ خدا روضہؑ جنت میں قدم ہے
پھر شکرِ خدا سامنے محرابِ نبی ہے
پھر سر ہے مِرا اور تِرا نقشِ قدم ہے
محرابِ نبی ہے کہ کوئی طورِ تجلی
دل شوق سے لبریز ہے اور آنکھ بھی نم ہے
پھر بارِ گہہ سیدِ کونین میں پہنچا
یہ ان کا کرم ان کا کرم ان کا کرم ہے
یہ ذره ناچیز ہے خورشید بداماں
دیکھ ان کے غلاموں کا بھی کیا جاہ و حشم ہے
ہر موئے بدن بھی جو زباں بَن کے کرے شکر
کم ہے بخدا ان کی عنایات سے کم ہے
وہ رحمتِ عالم ہے شہِ اسود و احمر
وہ سید کونین ہے آقائے امم ہے
وہ عالمِ توحید کا مظہر ہے کہ جس میں
مشرق ہے نہ مغرب ہے عرب ہے نہ عجم ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.