Font by Mehr Nastaliq Web

پھر پیشِ نظر گنبدِ خضریٰ ہے حرم ہے

مفتی محمد شفیع

پھر پیشِ نظر گنبدِ خضریٰ ہے حرم ہے

مفتی محمد شفیع

MORE BYمفتی محمد شفیع

    پھر پیشِ نظر گنبدِ خضریٰ ہے حرم ہے

    پھر نامِ خدا روضہؑ جنت میں قدم ہے

    پھر شکرِ خدا سامنے محرابِ نبی ہے

    پھر سر ہے مِرا اور تِرا نقشِ قدم ہے

    محرابِ نبی ہے کہ کوئی طورِ تجلی

    دل شوق سے لبریز ہے اور آنکھ بھی نم ہے

    پھر بارِ گہہ سیدِ کونین میں پہنچا

    یہ ان کا کرم ان کا کرم ان کا کرم ہے

    یہ ذره ناچیز ہے خورشید بداماں

    دیکھ ان کے غلاموں کا بھی کیا جاہ و حشم ہے

    ہر موئے بدن بھی جو زباں بَن کے کرے شکر

    کم ہے بخدا ان کی عنایات سے کم ہے

    وہ رحمتِ عالم ہے شہِ اسود و احمر

    وہ سید کونین ہے آقائے امم ہے

    وہ عالمِ توحید کا مظہر ہے کہ جس میں

    مشرق ہے نہ مغرب ہے عرب ہے نہ عجم ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے