Font by Mehr Nastaliq Web

اس لیے آرزو ہے چینے کی

محمد ذکی کیفی

اس لیے آرزو ہے چینے کی

محمد ذکی کیفی

MORE BYمحمد ذکی کیفی

    اس لیے آرزو ہے چینے کی

    دیکھ لوں پھر زمیں مدینے کی

    دھن لگی ہو جسے مدینے کی

    اس کو حاجت نہیں سفینے کی

    راهِ طیبہ میں جو گزر جائے

    زندگی ہے وہی قرینے کی

    جو در مصطفیٰ سے ملتا ہے

    عشق کنجی ہے اس خزینے کی

    چل مدینے اگر ضرورت ہے

    قلبِ صد چاک چاک سینے کی

    جامِ کوثر کا ساقیِ کوثر

    مجھ کو بھی آرزو ہے پینے کی

    ان کے در پر گرا ہے اک آنسو

    خوش نصیبی ہے آبگینے کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے