اس لیے آرزو ہے چینے کی
اس لیے آرزو ہے چینے کی
دیکھ لوں پھر زمیں مدینے کی
دھن لگی ہو جسے مدینے کی
اس کو حاجت نہیں سفینے کی
راهِ طیبہ میں جو گزر جائے
زندگی ہے وہی قرینے کی
جو در مصطفیٰ سے ملتا ہے
عشق کنجی ہے اس خزینے کی
چل مدینے اگر ضرورت ہے
قلبِ صد چاک چاک سینے کی
جامِ کوثر کا ساقیِ کوثر
مجھ کو بھی آرزو ہے پینے کی
ان کے در پر گرا ہے اک آنسو
خوش نصیبی ہے آبگینے کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.