نظر آتے نہیں اور لطف یہ دل کے قریں تم ہو
نظر آتے نہیں اور لطف یہ دل کے قریں تم ہو
جسے پھر بھی زمانہ چاہتا ہے وہ حسیں تم ہو
تصور نے تمہارے معجزے کیا کیا دکھائے ہیں
زمیں سے تا فلک تم ہو فلک سے تا زمیں تم ہو
سمائے ہو تمہیں تم نور بن کر میری آنکھوں میں
مرے لب پر تمہیں تم ہو مرے دل میں تمہیں تم ہو
زمانہ جس پہ مرتا ہے خدا خود جس کا شیدا ہے
وہ ماہِ جاں ستاں تم ہو وہ مہرِ دلنشیں تم ہو
تمہارے واسطے ہی تو ہوئی تخلیق عالم کی
حقیقت میں زمانے کی بنائے اولیں تم ہو
سیہ کاروں کو کیا دھڑکا گنہگاروں کو کیا کھٹکا
شفیع المذنبیں تم، رحمت اللعالمیں تم ہو
جہاں بھر کے خزانوں میں فقط اللہ ہی اللہ ہے
محمد مصطفیٰ گنجِ سعادت کے امیں تم ہو
خدا پر جان دیتے ہیں ہزاروں عاشقانِ حق
مگر جس پر خدا جاں دے وہ محبوبِ حسیں تم ہو
تمہیں پر ہوگئیں ہیں ختم ساری رحمتیں حق کی
جبھی مجرمؔ سمجھتا ہے کہ ختم المرسلیں تم ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.