نبی کی یاد میں یہ دم نکل جاتا تو اچھا تھا
نبی کی یاد میں یہ دم نکل جاتا تو اچھا تھا
دلِ مضطر بہر صورت بہل جاتا تو اچھا تھا
یہ خاکہ نور کے سانچے میں ڈھل جاتا تو اچھا تھا
پکڑ کر دامنِ آقا سنبھل جاتا تو اچھا تھا
الٰہی از طفیلِ مصطفیٰ اک چشمۂ زم زم
مرے بھی دیدہ و دل میں، ابل جاتا تو اچھا تھا
پہنچ جاتے سر قوسین، صدقے میں محمد کے
گماں، روح الامیں کا گر بدل جاتا تو اچھا تھا
مدینے میں جگہ تھوڑی سی مل جاتی تجھے مخلصؔ
نبی کے سایۂ رحمت میں پل جاتا تو اچھا تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.