Font by Mehr Nastaliq Web

نبی کی یاد میں یہ دم نکل جاتا تو اچھا تھا

مخلص حیدرآبادی

نبی کی یاد میں یہ دم نکل جاتا تو اچھا تھا

مخلص حیدرآبادی

MORE BYمخلص حیدرآبادی

    نبی کی یاد میں یہ دم نکل جاتا تو اچھا تھا

    دلِ مضطر بہر صورت بہل جاتا تو اچھا تھا

    یہ خاکہ نور کے سانچے میں ڈھل جاتا تو اچھا تھا

    پکڑ کر دامنِ آقا سنبھل جاتا تو اچھا تھا

    الٰہی از طفیلِ مصطفیٰ اک چشمۂ زم زم

    مرے بھی دیدہ و دل میں، ابل جاتا تو اچھا تھا

    پہنچ جاتے سر قوسین، صدقے میں محمد کے

    گماں، روح الامیں کا گر بدل جاتا تو اچھا تھا

    مدینے میں جگہ تھوڑی سی مل جاتی تجھے مخلصؔ

    نبی کے سایۂ رحمت میں پل جاتا تو اچھا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے