میرے خیال کو وسعت حضور نے دی ہے
میرے خیال کو وسعت حضور نے دی ہے
مجھے نظر کی اصابت حضور نے دی ہے
زمانے بھر کے خزانوں سے بے نیاز ہوں میں
مجھے کچھ اور ہی دولت حضور نے دی ہے
میں ایک ذرہ تھا خورشیدِ تابناک ہوا
مجھے یہ عظمت و رفعت حضور نے دی ہے
میں حادثاتِ زمانہ کو دیکھ لیتا ہوں
مجھے کچھ ایسی بصیرت حضور نے دی ہے
خدا کرے کہ میں بے ساختہ پکار اٹھوں
مجھے بھی چادرِ رحمت حضور نے دی ہے
وہ اہلِ قافلہ سے پہلے طیبہ پہنچے گا
جسے سفر کی بشارت حضور نے دی ہے
کچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں
جنہیں نویدِ شفاعت حضور نے دی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.