Font by Mehr Nastaliq Web

میرے خیال کو وسعت حضور نے دی ہے

منیر قصوری

میرے خیال کو وسعت حضور نے دی ہے

منیر قصوری

MORE BYمنیر قصوری

    میرے خیال کو وسعت حضور نے دی ہے

    مجھے نظر کی اصابت حضور نے دی ہے

    زمانے بھر کے خزانوں سے بے نیاز ہوں میں

    مجھے کچھ اور ہی دولت حضور نے دی ہے

    میں ایک ذرہ تھا خورشیدِ تابناک ہوا

    مجھے یہ عظمت و رفعت حضور نے دی ہے

    میں حادثاتِ زمانہ کو دیکھ لیتا ہوں

    مجھے کچھ ایسی بصیرت حضور نے دی ہے

    خدا کرے کہ میں بے ساختہ پکار اٹھوں

    مجھے بھی چادرِ رحمت حضور نے دی ہے

    وہ اہلِ قافلہ سے پہلے طیبہ پہنچے گا

    جسے سفر کی بشارت حضور نے دی ہے

    کچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں

    جنہیں نویدِ شفاعت حضور نے دی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے