Font by Mehr Nastaliq Web

مدینہ کی بہاروں سے سکونِ قلب ملتا ہے

منیر قصوری

مدینہ کی بہاروں سے سکونِ قلب ملتا ہے

منیر قصوری

MORE BYمنیر قصوری

    مدینہ کی بہاروں سے سکونِ قلب ملتا ہے

    اسی کے لالہ زاروں سے سکونِ قلب ملتا ہے

    وہ جن سے عازمینِ طیبہ روز و شب گزرتے ہیں

    مجھے ان رہ گذاروں سے سکونِ قلب ملتا ہے

    جو مجھ کو سرورِ کونین کی باتیں سناتے ہیں

    مجھے ان میرے پیاروں سے سکونِ قلب ملتا ہے

    جہاں نامِ نبی پر جان دینے والے سوتے ہیں

    مجھے ایسے مزاروں سے سکونِ قلب ملتا ہے

    وہ مکہ ہو مدینہ ہو کہ شہرِ قدس کی گلیاں

    عقیدت کے دیاروں سے سکونِ قلب ملتا ہے

    جو صحراؤں سے اٹھ کر وادی رحمت کو جاتے ہیں

    ان اونٹوں کی قطاروں سے سکونِ قلب ملتا ہے

    منیرؔ اکثر میں تنہائی میں نعتیں گنگناتا ہوں

    کہ مجھ کو ان سہاروں سے سکونِ قلب ملتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے