مدینہ کی بہاروں سے سکونِ قلب ملتا ہے
مدینہ کی بہاروں سے سکونِ قلب ملتا ہے
اسی کے لالہ زاروں سے سکونِ قلب ملتا ہے
وہ جن سے عازمینِ طیبہ روز و شب گزرتے ہیں
مجھے ان رہ گذاروں سے سکونِ قلب ملتا ہے
جو مجھ کو سرورِ کونین کی باتیں سناتے ہیں
مجھے ان میرے پیاروں سے سکونِ قلب ملتا ہے
جہاں نامِ نبی پر جان دینے والے سوتے ہیں
مجھے ایسے مزاروں سے سکونِ قلب ملتا ہے
وہ مکہ ہو مدینہ ہو کہ شہرِ قدس کی گلیاں
عقیدت کے دیاروں سے سکونِ قلب ملتا ہے
جو صحراؤں سے اٹھ کر وادی رحمت کو جاتے ہیں
ان اونٹوں کی قطاروں سے سکونِ قلب ملتا ہے
منیرؔ اکثر میں تنہائی میں نعتیں گنگناتا ہوں
کہ مجھ کو ان سہاروں سے سکونِ قلب ملتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.