تھی شب معراج میں سارے فلک پر چاندنی
تھی شب معراج میں سارے فلک پر چاندنی
نور محبوب خدا سے تھی منور چاندنی
عرش و کرسی پر کہاں تھا ماہ کا نام و نشاں
روئے احمد چاند تھا تھی اس سے یکسر چاندنی
کھل گئی جاتے ہوئے جب کاکلِ عنبر فشاں
ہوگئی فیضانِ نکہت سے معطر چاندنی
کیا کہوں جلوہ تھا کیا صلِ علیٰ صلِ علیٰ
رہ گئی تھی دیکھ کر حیران و ششدر چاندنی
ساقیاؔ جس جا کہیں جاتے ہوئے ٹھہرا براق
بن گئے قندیل تارے فرش چادر چاندنی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.