Font by Mehr Nastaliq Web

تھی شب معراج میں سارے فلک پر چاندنی

منشی شنکر لال

تھی شب معراج میں سارے فلک پر چاندنی

منشی شنکر لال

MORE BYمنشی شنکر لال

    تھی شب معراج میں سارے فلک پر چاندنی

    نور محبوب خدا سے تھی منور چاندنی

    عرش و کرسی پر کہاں تھا ماہ کا نام و نشاں

    روئے احمد چاند تھا تھی اس سے یکسر چاندنی

    کھل گئی جاتے ہوئے جب کاکلِ عنبر فشاں

    ہوگئی فیضانِ نکہت سے معطر چاندنی

    کیا کہوں جلوہ تھا کیا صلِ علیٰ صلِ علیٰ

    رہ گئی تھی دیکھ کر حیران و ششدر چاندنی

    ساقیاؔ جس جا کہیں جاتے ہوئے ٹھہرا براق

    بن گئے قندیل تارے فرش چادر چاندنی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے