Font by Mehr Nastaliq Web

تو نہ اترے قلب میں جب تک نظر کے راستے

مشتاق احمد ارم

تو نہ اترے قلب میں جب تک نظر کے راستے

مشتاق احمد ارم

MORE BYمشتاق احمد ارم

    تو نہ اترے قلب میں جب تک نظر کے راستے

    منکشف ہوتے کہاں ہیں تیرے در کے راستے

    یہ مدینے کے مسافر کا ہے اعجازِ خرام

    ڈھل گئے دلکش اجالوں میں سفر کے راستے

    مل گیا آنکھوں کو جس دم نورِ محبوبِ خدا

    خود نمایاں ہو گئے عیب و ہنر کے راستے

    اللہ اللہ! ہادیِ دوراں کی آوازِ جمیل

    بے خبر کے دل میں جاگ اٹھے، خبر کے راستے

    دوڑ پڑتا ہوں جنوں میں تیرے در کو بار بار

    لگ گئے قدموں کو میرے، تیرے در کے راستے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے