ثنائے محمد کیے جا رہا ہوں
ثنائے محمد کیے جا رہا ہوں
اسی آسرے پہ جیے جا رہا ہوں
تصور میں دن رات جامِ محبت
پلاتے ہیں وہ میں پیے جا رہا ہوں
محمد کا صدقہ درِ کبریا سے
میں بھر بھر کے جھولی لیے جا رہا ہوں
کٹے میری ہر سانس یادِ نبی میں
دعا یہ خدا سے کیے جا رہا ہوں
ندیمؔ اب عمل پاس کوئی نہیں ہے
انہی کی دہائی دییے جا رہا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.