Font by Mehr Nastaliq Web

ثنائے محمد کیے جا رہا ہوں

ندیم نیازی

ثنائے محمد کیے جا رہا ہوں

ندیم نیازی

MORE BYندیم نیازی

    ثنائے محمد کیے جا رہا ہوں

    اسی آسرے پہ جیے جا رہا ہوں

    تصور میں دن رات جامِ محبت

    پلاتے ہیں وہ میں پیے جا رہا ہوں

    محمد کا صدقہ درِ کبریا سے

    میں بھر بھر کے جھولی لیے جا رہا ہوں

    کٹے میری ہر سانس یادِ نبی میں

    دعا یہ خدا سے کیے جا رہا ہوں

    ندیمؔ اب عمل پاس کوئی نہیں ہے

    انہی کی دہائی دییے جا رہا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے