Font by Mehr Nastaliq Web

ہم نے ذاتِ واحد سے، کیا بتائیں کیا پایا

نعیم میرٹھی

ہم نے ذاتِ واحد سے، کیا بتائیں کیا پایا

نعیم میرٹھی

MORE BYنعیم میرٹھی

    ہم نے ذاتِ واحد سے، کیا بتائیں کیا پایا

    جب بھی ہاتھ پھیلائے دل کا مدعا پایا

    اس کی بخششوں کی حد کوئی کیسے جانے گا

    جس نے جس قدر مانگا، اس سے بھی سِوا پایا

    بارہا یہ نعمت بھی اس کے در سے پائی ہے

    اشک آنکھ سے ٹپکے، قلب نے مزا پایا

    ہم نے یاد سے تیری، ہم نے ذکر سے تیرے

    روح میں جلا پائی، دل کو آئینہ پایا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے