ہم نے ذاتِ واحد سے، کیا بتائیں کیا پایا
ہم نے ذاتِ واحد سے، کیا بتائیں کیا پایا
جب بھی ہاتھ پھیلائے دل کا مدعا پایا
اس کی بخششوں کی حد کوئی کیسے جانے گا
جس نے جس قدر مانگا، اس سے بھی سِوا پایا
بارہا یہ نعمت بھی اس کے در سے پائی ہے
اشک آنکھ سے ٹپکے، قلب نے مزا پایا
ہم نے یاد سے تیری، ہم نے ذکر سے تیرے
روح میں جلا پائی، دل کو آئینہ پایا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.