ہے شام وہاں اور وہاں کی ہے سحر اور
ہے شام وہاں اور وہاں کی ہے سحر اور
طیبہ کی فضاؤں کا ہے رنگ اور اثر اور
اس در کا کرشمہ جو نہیں ہے تو یہ کیا ہے
ہوتا ہے سر فراز جو جھکتا ہے یہ سر اور
وہ شہرِ مدینہ کہ ہے رحمت کا خزینہ
ہے اس کا شجر اور ہوا اور ثمر اور
وہ قلب منور ہے کہ جس میں ہے تری یاد
فرقت میں جو ہوئے ہیں لہو، وہ ہیں جگر اور
للہ کرم! مجھ پہ کبھی چشمِ عنایت
کب تک میری ہوگی غمِ فرقت میں بسر اور
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.