Font by Mehr Nastaliq Web

ہے شام وہاں اور وہاں کی ہے سحر اور

نعیم نیازی

ہے شام وہاں اور وہاں کی ہے سحر اور

نعیم نیازی

MORE BYنعیم نیازی

    ہے شام وہاں اور وہاں کی ہے سحر اور

    طیبہ کی فضاؤں کا ہے رنگ اور اثر اور

    اس در کا کرشمہ جو نہیں ہے تو یہ کیا ہے

    ہوتا ہے سر فراز جو جھکتا ہے یہ سر اور

    وہ شہرِ مدینہ کہ ہے رحمت کا خزینہ

    ہے اس کا شجر اور ہوا اور ثمر اور

    وہ قلب منور ہے کہ جس میں ہے تری یاد

    فرقت میں جو ہوئے ہیں لہو، وہ ہیں جگر اور

    للہ کرم! مجھ پہ کبھی چشمِ عنایت

    کب تک میری ہوگی غمِ فرقت میں بسر اور

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے