Font by Mehr Nastaliq Web

سیر دل کی جسے میسر ہے

نعیم الدین مرادآبادی

سیر دل کی جسے میسر ہے

نعیم الدین مرادآبادی

MORE BYنعیم الدین مرادآبادی

    سیر دل کی جسے میسر ہے

    عیش دنیا اسے مکدر ہے

    اس کی نزدیک زینتِ عالم

    خش و خاشاک سے بھی کمتر ہے

    اصل نعمت بقا ہے لیکن وہ

    کون سی چیز کو میسر ہے

    کون سی چیز کو زوال نہیں

    نیستی سب کی یاں مقدر ہے

    نقشِ بر آب کی طرف ہیں وجود

    بے ثباتی ہر اک کی اظہر ہے

    سب حقیقت میں نقشِ باطل ہے

    جاہ ہے یا حکومت و زر ہے

    دل کی دنیا عجیب دنیا ہے

    راز ہستی کا اس میں مضمر ہے

    دل کو خالی کرو کدورت سے

    جلوہ گاہِ جنابِ داور ہے

    سارے عالم میں جو سما نہ سکے

    جلوہ فرما وہ دل کے اندر ہے

    تم اسے ڈھونڈنے چلے ہو کہاں

    دلِ بے غل ہی یار کا گھر ہے

    پرتوِ حسنِ لم یزل پہ مٹو

    جس سے مؤمن کا دل منور ہے

    ظل کو ظل جان کرو توقیر

    کیوں کہ یہ بھی اسی کا مظہر ہے

    رازِ وحدت کھلے نعیم الدینؔ

    اشرفی کا یہ فیض تجھ پر ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 33)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے