سیر دل کی جسے میسر ہے
سیر دل کی جسے میسر ہے
عیش دنیا اسے مکدر ہے
اس کی نزدیک زینتِ عالم
خش و خاشاک سے بھی کمتر ہے
اصل نعمت بقا ہے لیکن وہ
کون سی چیز کو میسر ہے
کون سی چیز کو زوال نہیں
نیستی سب کی یاں مقدر ہے
نقشِ بر آب کی طرف ہیں وجود
بے ثباتی ہر اک کی اظہر ہے
سب حقیقت میں نقشِ باطل ہے
جاہ ہے یا حکومت و زر ہے
دل کی دنیا عجیب دنیا ہے
راز ہستی کا اس میں مضمر ہے
دل کو خالی کرو کدورت سے
جلوہ گاہِ جنابِ داور ہے
سارے عالم میں جو سما نہ سکے
جلوہ فرما وہ دل کے اندر ہے
تم اسے ڈھونڈنے چلے ہو کہاں
دلِ بے غل ہی یار کا گھر ہے
پرتوِ حسنِ لم یزل پہ مٹو
جس سے مؤمن کا دل منور ہے
ظل کو ظل جان کرو توقیر
کیوں کہ یہ بھی اسی کا مظہر ہے
رازِ وحدت کھلے نعیم الدینؔ
اشرفی کا یہ فیض تجھ پر ہے
- کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 33)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.