Font by Mehr Nastaliq Web

ہے کون جو شائق ہو مری طرح ستم کا

نعیم الدین مرادآبادی

ہے کون جو شائق ہو مری طرح ستم کا

نعیم الدین مرادآبادی

MORE BYنعیم الدین مرادآبادی

    ہے کون جو شائق ہو مری طرح ستم کا

    مشتاقِ دل و جاں سے ہوں دردِ غم کا

    یکتا ہوں وہ غمگیں کہ کہیں جز مرے گھر کے

    ڈھونڈو تو پتا تک نہ ملے رنج و الم کا

    اب شوق یہ کہتا ہے وہاں پہلے ہی پہنچے

    کاغذ سے بھی آگے ہو قدم نقشِ رقم کا

    اور رشک یہ کہتا ہے کوئی دیکھے نہ مضموں

    کاغذ پہ نشاں بھی نہ رہے نقشِ رقم کا

    وہ اپنا جفا کاری میں ثانی نہیں رکھتے

    معلوم نہیں کس سے لیا درس ستم کا

    وعدے تو وہ کر لیتے ہیں ایفا نہیں کرتے

    کچھ پاس نہ وعدہ کا انہیں ہے نہ قسم کا

    اے کاش کوئی اس بتِ طناز سے کہتا

    ہے چاہنے والا ترا مہماں کوئی دم کا

    دزدیدہ نگاہوں سے مجھے آپ نے دیکھا

    ممنون ہوں میں آپ کے اس لطف و کرم کا

    سنتے ہیں نعیمؔ آتے ہیں وہ بہرِ عیادت

    کیا آج ستارہ مری تقدیر کا چمکا

    مأخذ :
    • کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 04)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے