ہے کون جو شائق ہو مری طرح ستم کا
ہے کون جو شائق ہو مری طرح ستم کا
مشتاقِ دل و جاں سے ہوں دردِ غم کا
یکتا ہوں وہ غمگیں کہ کہیں جز مرے گھر کے
ڈھونڈو تو پتا تک نہ ملے رنج و الم کا
اب شوق یہ کہتا ہے وہاں پہلے ہی پہنچے
کاغذ سے بھی آگے ہو قدم نقشِ رقم کا
اور رشک یہ کہتا ہے کوئی دیکھے نہ مضموں
کاغذ پہ نشاں بھی نہ رہے نقشِ رقم کا
وہ اپنا جفا کاری میں ثانی نہیں رکھتے
معلوم نہیں کس سے لیا درس ستم کا
وعدے تو وہ کر لیتے ہیں ایفا نہیں کرتے
کچھ پاس نہ وعدہ کا انہیں ہے نہ قسم کا
اے کاش کوئی اس بتِ طناز سے کہتا
ہے چاہنے والا ترا مہماں کوئی دم کا
دزدیدہ نگاہوں سے مجھے آپ نے دیکھا
ممنون ہوں میں آپ کے اس لطف و کرم کا
سنتے ہیں نعیمؔ آتے ہیں وہ بہرِ عیادت
کیا آج ستارہ مری تقدیر کا چمکا
- کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 04)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.