Font by Mehr Nastaliq Web

کبھی تو آ مرے دل میں قرار دل ہو کر

نعیم الدین مرادآبادی

کبھی تو آ مرے دل میں قرار دل ہو کر

نعیم الدین مرادآبادی

MORE BYنعیم الدین مرادآبادی

    کبھی تو آ مرے دل میں قرار دل ہو کر

    کبھی ہو آتشِ غم سرد مشتعل ہو کر

    پھر ایسا جلوہ دکھا حسنِ بے مثالی کا

    ہرے ہوں زخمِ دلِ زار مند مل ہو کر

    مٹا دے مجھ کو کہ جلوہ نما ہو ہستی حق

    مرے وجود کا پندار مضمحل ہو کر

    عروج عالمِ روحانیت کہاں وہ کہاں

    جو پھنس گیا ہو عناصِر میں پا بگل ہو کر

    یہ عشق مادیت راہ زن ہے مہلک ہے

    پہنچنے دے گا نہ منزل پہ جا ں گسل ہو کر

    عجب مقام ہے تدبیر ہائے عالم سے

    خلل فراغ میں آئے نہ مشتغل ہو کر

    نعیمؔ مست خدا جانے کہہ گیا کیا کیا

    خرد سے دور حماقت میں مشتمل ہو کر

    مأخذ :
    • کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 11)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے