کبھی تو آ مرے دل میں قرار دل ہو کر
کبھی تو آ مرے دل میں قرار دل ہو کر
کبھی ہو آتشِ غم سرد مشتعل ہو کر
پھر ایسا جلوہ دکھا حسنِ بے مثالی کا
ہرے ہوں زخمِ دلِ زار مند مل ہو کر
مٹا دے مجھ کو کہ جلوہ نما ہو ہستی حق
مرے وجود کا پندار مضمحل ہو کر
عروج عالمِ روحانیت کہاں وہ کہاں
جو پھنس گیا ہو عناصِر میں پا بگل ہو کر
یہ عشق مادیت راہ زن ہے مہلک ہے
پہنچنے دے گا نہ منزل پہ جا ں گسل ہو کر
عجب مقام ہے تدبیر ہائے عالم سے
خلل فراغ میں آئے نہ مشتغل ہو کر
نعیمؔ مست خدا جانے کہہ گیا کیا کیا
خرد سے دور حماقت میں مشتمل ہو کر
- کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 11)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.