مست بادل سرِ کہسار نظر آتے ہیں
مست بادل سرِ کہسار نظر آتے ہیں
فضلِ باری سے گراں بار نظر آتے ہیں
یہ جو صحرا گل و گلزار نظر آتے ہیں
تیری رحمت ہی کے آثار نظر آتے ہیں
رشکِ صد یوسفِ کنعاں ہے مدینے کا نِگار
دو جہاں طالبِ دیدار نظر آتے ہیں
تاج ہے ختمِ نبوت کا سرِ اقدس پر
گرد انوار ہی انوار نظر آتے ہیں
آج حسرت کی ہے تصویر قبا کی مسجد
سونے سونے در و دیوار نظر آتے ہیں
ان سیاہ فام فقیروں کو حقارت سے نہ دیکھ
مجھ کو یہ صاحبِ اسرار نظر آتے ہیں
رند تو رِند ہیں زمزم کی صبوحی پی کر
زاہد خشک بھی سرشار نظر آتے ہیں
حلق تانوسِ محمد پہ کٹانے والے
کچھ جو ہیں تو یہی احرار نظر آتے ہیں
بختِ بیدار مبارک ہو انہیں جن کو نفیسؔ
خواب میں سیدِ ابرار نظر آتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.