Font by Mehr Nastaliq Web

شکر ہے ترا خدایا میں تو اس قابل نہ تھا

نفیس الحسنی

شکر ہے ترا خدایا میں تو اس قابل نہ تھا

نفیس الحسنی

MORE BYنفیس الحسنی

    شکر ہے ترا خدایا میں تو اس قابل نہ تھا

    تو نے اپنے گھر بلایا میں تو اس قابل نہ تھا

    اپنا دیوانہ بنایا میں تو اس قابل نہ تھا

    گرد کعبے کے پھرایا میں تو اس قابل نہ تھا

    مدتوں کی پیاس کو سیراب تو نے کر دیا

    جام زمزم کا پلایا میں تو اس قابل نہ تھا

    ڈال دی ٹھنڈک مرے سینے میں تو نے ساقیا

    اپنے سینے سے لگایا میں تو اس قابل نہ تھا

    بھا گیا میری زباں کو ذکر الا اللہ کا

    یہ سبق کس نے پڑھایا میں تو اس قابل نہ تھا

    خاص اپنے در کا رکھا تو نے اے مولیٰ مجھے

    یوں نہیں در در پھرایا میں تو اس قابل نہ تھا

    میری کوتاہی کہ تیری یاد سے غافل رہا

    پر نہیں تو نے بھلایا میں تو اس قابل نہ تھا

    میں کہ تھا بے راہ تو نے دستگیری آپ کی

    تو ہی مجھ کو راہ پر لایا میں تو اس قابل نہ تھا

    عہد جو روز ازل میں نے کیا تھا یاد ہے

    عہد وہ کس نے نبھایا میں تو اس قابل نہ تھا

    تیری رحمت تیری شفقت سے ہوا مجھ کو نصیب

    گنبد خضریٰ کا سایہ میں تو اس قابل نہ تھا

    میں نے جو دیکھا سو دیکھا بارگاہ قدس میں

    اور جو پایا سو پایا میں تو اس قابل نہ تھا

    بارگاه سیدالکونین میں آ کر نفیسؔ

    سوچتا ہوں کیسے آیا میں تو اس قابل نہ تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے