شکر ہے ترا خدایا میں تو اس قابل نہ تھا
شکر ہے ترا خدایا میں تو اس قابل نہ تھا
تو نے اپنے گھر بلایا میں تو اس قابل نہ تھا
اپنا دیوانہ بنایا میں تو اس قابل نہ تھا
گرد کعبے کے پھرایا میں تو اس قابل نہ تھا
مدتوں کی پیاس کو سیراب تو نے کر دیا
جام زمزم کا پلایا میں تو اس قابل نہ تھا
ڈال دی ٹھنڈک مرے سینے میں تو نے ساقیا
اپنے سینے سے لگایا میں تو اس قابل نہ تھا
بھا گیا میری زباں کو ذکر الا اللہ کا
یہ سبق کس نے پڑھایا میں تو اس قابل نہ تھا
خاص اپنے در کا رکھا تو نے اے مولیٰ مجھے
یوں نہیں در در پھرایا میں تو اس قابل نہ تھا
میری کوتاہی کہ تیری یاد سے غافل رہا
پر نہیں تو نے بھلایا میں تو اس قابل نہ تھا
میں کہ تھا بے راہ تو نے دستگیری آپ کی
تو ہی مجھ کو راہ پر لایا میں تو اس قابل نہ تھا
عہد جو روز ازل میں نے کیا تھا یاد ہے
عہد وہ کس نے نبھایا میں تو اس قابل نہ تھا
تیری رحمت تیری شفقت سے ہوا مجھ کو نصیب
گنبد خضریٰ کا سایہ میں تو اس قابل نہ تھا
میں نے جو دیکھا سو دیکھا بارگاہ قدس میں
اور جو پایا سو پایا میں تو اس قابل نہ تھا
بارگاه سیدالکونین میں آ کر نفیسؔ
سوچتا ہوں کیسے آیا میں تو اس قابل نہ تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.