Font by Mehr Nastaliq Web

تصور جب سے آیا دل میں میرے نعتِ سرور کا

نغز بلگرامی

تصور جب سے آیا دل میں میرے نعتِ سرور کا

نغز بلگرامی

MORE BYنغز بلگرامی

    تصور جب سے آیا دل میں میرے نعتِ سرور کا

    زباں میری دہن میں ہوگئی اک موجہ کوثر کا

    ثنا خواں ہوں دلا میں اس شہِ محبوبِ داور کا

    مگس راں جس کا ہے فغفور قیصر پاسباں در کا

    اسی کی شان میں ’’لولاک‘‘ فرمایا ہے خالق نے

    یہ ربتہ کس نبی کا تھا یہ درجہ کس پیمبر کا

    نہیں کم معجزہ شق القمر کا چشم بینا کو

    کریں کیوں مختصر کو طول لکھ کر حال پتھر کا

    عرب رطب اللساں مصری شکر لب شکرِ احمد میں

    ابھی تک روم لوہا مانتا ہے اس کے خنجر کا

    نگاہِ لطف سے شاہِ امم گر یک نظر دیکھیں

    گہر بن جائے ہر قطرہ ہمارے دامنِ تر کا

    یہی نعتِ پیمبر ہوگی اپنی حافظ و ناصر

    کریں کس واسطے ہم نغزؔ کھٹکا روزِ محشر کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے