تصور جب سے آیا دل میں میرے نعتِ سرور کا
تصور جب سے آیا دل میں میرے نعتِ سرور کا
زباں میری دہن میں ہوگئی اک موجہ کوثر کا
ثنا خواں ہوں دلا میں اس شہِ محبوبِ داور کا
مگس راں جس کا ہے فغفور قیصر پاسباں در کا
اسی کی شان میں ’’لولاک‘‘ فرمایا ہے خالق نے
یہ ربتہ کس نبی کا تھا یہ درجہ کس پیمبر کا
نہیں کم معجزہ شق القمر کا چشم بینا کو
کریں کیوں مختصر کو طول لکھ کر حال پتھر کا
عرب رطب اللساں مصری شکر لب شکرِ احمد میں
ابھی تک روم لوہا مانتا ہے اس کے خنجر کا
نگاہِ لطف سے شاہِ امم گر یک نظر دیکھیں
گہر بن جائے ہر قطرہ ہمارے دامنِ تر کا
یہی نعتِ پیمبر ہوگی اپنی حافظ و ناصر
کریں کس واسطے ہم نغزؔ کھٹکا روزِ محشر کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.