Font by Mehr Nastaliq Web

آپ کا عہد گر ملا ہوتا

نجیب احمد

آپ کا عہد گر ملا ہوتا

نجیب احمد

MORE BYنجیب احمد

    آپ کا عہد گر ملا ہوتا

    میں بھی ہم عصر کعب کا ہوتا

    بیعتِ عشق روز کرتا ہوں میں

    ہاتھ میں ہاتھ آپ کا ہوتا

    مجھ کو جینے کے ڈھنگ آ جاتے

    میں بھی اک پیکرِ وفا ہوتا

    زخم جو آپ کو احد میں لگا

    میرے ماتھے پہ وہ کھلا ہوتا

    آپ جن راستوں ست گزرے تھے

    ان پہ میرا بدن بچھا ہوتا

    میں اتر جاتا کفر کے دل میں

    آپ کا تیر بن گیا ہوتا

    کاش میں بھی لحد کی مٹی میں

    آپ کے ہاتھ سے ملا ہوتا

    آپ کا ہاتھ مجھ کو دفنا کر

    بن کر ابرِ دعا اٹھا ہوتا

    ایک انسان دیکھتا میں نجیبؔ

    اور قرآن پڑھ لیا ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے